Latest لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Latest لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 11 اگست، 2020

مریم نواز کی اراضی کرپشن کیس میں پارٹی کارکنوں کے ہمراہ پیشی

Maryam nawaz
Maryam nawaz
آج 11 اگست 2020 مریم نواز کی اراضی کرپشن کیس کے سلسلے  میں  نیب کے سامنے پیشی تھی۔ آج نیب کے سامنے
مریم نواز پارٹی کارکنان  کے قافلے کے ہمراہ جاتی امراء سے نیب آفس روانہ ہوئیں۔نیب نے 11 اگست کو مریم نواز کو جاتی امراء اراضی کی خریدوفروخت کی تمام دستاویزات اور تفصیلات کے ساتھ طلب کررکھا تھا ،نیب نے مریم نواز  سے تفشیش کیلئے سوالنامہ تیار کرلیا ہے، نیب تسلی بخش جوابات نہ ملنے پر مریم نواز کو گرفتار کر سکتا ہے یا دوبارہ نیب دفتر طلب کر سکتا ہے۔

ذرائع  کے مطابق آج 11 اگست بروز منگل نیب کی طلبی پرمسلم لیگ ن کی نائب صدر اور سابق وزیر اعظم نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز  آج صبح کارکنان کے ہمراہ  نیب آفس روانہ ہوگئی ہیں۔ مریم نواز کے ساتھ ن لیگی کارکنان کا ایک بڑا قافلہ بھی روانہ ہوا ہے ۔ نیب دفتر کے باہر بھی ن لیگی رہنماؤں اور کارکنان کی بھاری تعداد جمع ہوگئی ہے۔ نیب آفس کے باہر پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات کر دی گئی ہے،تاکہ کسی ناخوشگوار واقعہ سے بچا جا سکے۔
 نیب آفس کے سامنے پولیس نے بیرئیر (رکاوٹیں) لگا دیے ہیں۔ اس سے پہلے بھی نیب کی طرف سے اراضی کی خریدوفروخت  کے بارے میں مریم نواز کی طلبی کا نوٹس اور سوالنامہ جاتی امراء ارسال کیا گیا تھا۔  اس سوالنامے میں پوچھا گیا ہے کہ جاتی امرا کی 1440 کنال اراضی کی خریدوفروخت اور دیگر تفصیلات سے نیب کو آگاہ کیا جائے۔ زمین جب خریدی گئی تومریم نواز کے ذرائع آمدنی کیا تھے؟ زمین کی خرید کس طریقے سے کی گئی تھی؟  زمین  کا ٹیکس ادا کیا گیا ہے؟ زمین زرعی استعمال  یا کمرشل استعمال میں رہی ہے ؟
میڈیا  ذرائع کے مطابق مریم نوازپر رائے ونڈ میں وسیع اراضی انتہائی سستے داموں اور ماورائے قانون خریدنے کا الزام ہے، شریف خاندان نے 2013 میں 3568 کنال اراضی خلاف قانون خریدی  اور سب سے زیادہ1936 کنال زمین نواز شریف اورشہباز شریف کی والدہ شمیم بی بی کے نام منتقل کی گئی ۔

مزید یہ بھی اطلاعات ہیں کہ نواز شریف اور شہباز شریف دونوں  کے نام الگ الگ  ،12 ،12ایکڑ زمین منتقل کی گئی اور زمین کی منتقلی میں  ایل ڈی اے کے قواعد و ضوابط کو نظر انداز کیا گیا تھا جبکہ 2015 میں سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ کے ساتھ مل کر  لاہور کا ماسٹر پلان تبدیل کروایا گیا تھا جس کے تحت شریف فیملی کی اراضی  کے ارد گرد تمام رقبے کو گرین لینڈ قرار دے دیا گیا تھا جس کا مقصد شریف فیملی کی اراضی کے ارد گرد تعمیرات کو روکنا تھا ۔
دیگر بہت سے مقدمات کے ساتھ شریف خاندان کے اوپر جاتی امراو اراضی کرپشن کیس ایک اہم مقدمہ ہے ، جس کے سلسلے میں آج مریم نواز نیب دفتر میں پیش ہوئی ہیں ۔دیکھنا یہ ہے کہ مریم نواز نیب کو ان الزامات کے بارے میں مطمئن کر پاتی ہیں یا نہیں ۔

اتوار، 9 اگست، 2020

چین میں نئی وبا بوبونہ طاعون (Bubonic plague) سے پہلی موت واقع

Bubonic plague
Bubonic plague 

چین میں نئی وبا بوبونہ طاعون کے سر اٹھانے کا خدشہ ۔
 

Suji xincum اندرون منگول علاقے کے قریب
 شہر میں بوبونہ طاعون کے باعث پہلی موت واقع ہوئی ہے ۔

بوبونہ طاعون کو گلٹی دار طاعون بھی کہا جاتا ہے ۔
سوجئ زنکم کا علاقہ اندرون منگول کے شہر باو تاو کے قریب ہے۔


باو تاو میونسپل اینڈ ہیلتھ کمیشن نے شہر کو سیل کرنے اور ڈس انفیکٹ کرنے کے اقدامات کیے ہیں ۔
اس وبا کے خدشے کے پیش نظر مرنے والے متاثرہ مریض کے 9 قریبی رشتہ داروں اور 26 باقی ملنے جلنے والوں کے ٹیسٹ بھی لیے گئے ہیں جو نیگیٹو آئے ہیں۔

مذکورہ گاوں دماو بینر صوبے کا حصہ ہے اسے وبا کے لیول-3 پر رکھا گیا ہے جو وبائی میٹر کے مطابق 4-لیول سسٹم میں انتہائی کے قریب ہے ۔

واضح رہے چائنہ میں بوبونہ طاعون کے باعث ہونے والی یہ پہلی موت ہے جبکہ رپورٹ ہونے والا دوسرا کیس ہے۔اس سے پہلے بوبونہ طاعون کا پہلا مریض جولائی کے مہینے میں اندرون منگول کے  Bayannur علاقے سے رپورٹ ہوا تھا ۔
 حالیہ مرنے والے مریض میں بوبونہ طاعون کا بیکٹیریا کیسے منتقل ہوا اس کے بارے میں ابھی تک حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔

بوبونہ طاعون یا گلٹی دار طاعون بیکٹیریا کی وجہ سے ہوتا ہے اور پسو کے کاٹنے سے پھیلتا ہے جو متاثرہ جانوروں کے جسم سے ہو کر آئیں یا براہ راست متاثرہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہو سکتا ہے ۔

چدہویں صدی میں طاعون کی وبا سے یورپ میں 50 ملین افراد ہلاک ہوئے تھے اس مہلک اور متعدی وبا کو Black death plauge یا Black death کا نام دیا گیا تھا۔
 عالمی ادارہ صحت کے مطابق اب بھی ہر سال 1000 سے 2000 افراد طاعون کے مرض کا شکار ہوتے ہیں لیکن میڈیکل سائنس کی جدید تحقیق اور اینٹی بائیوٹک ادوایات کی فراہمی کے باعث اب جان لیوا وبا کی شکل اختیار نہیں کر پاتا۔

 چین حال ہی میں وبائی مرض  کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوا تھا اور وہاں سے یہ وبا پوری دنیا میں پھیلی ۔اب کسی نئی وبا کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔
وبا کسی بھی ملک یا خطے کے لیے نہ صرف جانی نقصان کی وجہ بنتی ہے بلکہ معاشی طور پر بھی تباہ کن ثابت ہوتی ہے ۔موجودہ صورت حال میں ساری دنیا کو نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے ، سرحدیں بند کرنی پڑی جس سے آمدورفت منقطع ہونے کے ساتھ ساتھ تجارت بھی تعطل کا شکار ہو ئی اور مالی بحران پیدا ہوا۔ زیادہ تر وبا کی شکل وہی امراض اختیار کرتے ہیں جو متعدی ہوں اور ایک سے دوسرے انسان یا جاندار میں پھیلتے ہوں ۔ طاعون بھی چھوت کی بیماری ہے اور متاثرہ انسان کے ساتھ رہنے یا چھونے سے پھیل جاتی ہے ۔اس میں آئسولیشن ناگزیر ہوتی ہے ۔

جمعرات، 6 اگست، 2020

شہباز شریف اور حمزہ شریف پر شوگر ملز کیس میں فرد جرم عائد

Sugar mills case
Sugar mils case

احتساب عدالت لاہور نے رمضان شوگر ملز کیس میں
شہبازشریف اور ان کے صاحبزادےحمزہ شہباز پر فرد جرم عائد کر دی ،شہبازشریف اورحمزہ شہباز نے عدالت میں پیش ہو کرصحت جرم سے انکار کیا ہے ملزمان کے انکار کے بعد احتساب عدالت نے ریفرنس کے گواہوں کو 27 اگست کو طلب کر لیا ہے. شہبازشریف نےعدالت میں جج کے رو برو  بیان دیا کہ یہ ایک جھوٹ پر مبنی  کیس ہے، میں نے کوئی کروڑوں روپے کے TA/DA
 نہیں لیے، میں نے تو گاڑی کا پیٹرول تک سرکاری خزانے سے نہیں لیا، مسلم لیگ( ن) کے صدر نے میاں شہباز شریف نے کہا کہ  اجتماعی طور پر کھربوں روپے کی سرمایہ کاری کی ہے ، کاروبار میں شفافیت قانونی طور پر فرض ہے میں نے کسی پر کوئی احسان نہیں کیا ہے۔


ملزم میاں شہباز شریف نے مزید کہا کہ جج صاحب قانون کا علم آپ سے بہتر کس کو ہو گا اور اس پر عملدرآمد کا آپ سے بہتر کون علم رکھتا ہے ،ایک طرف میں نے کھربوں روپے کے منصوبوں میں اربوں روپے کی بچت کی ہے تو دوسری طرف میں ایک گندے نالے کے کیس میں جھک کیوں ماروں گا؟یاد رہے سال 2019 میں قومی اسمبلی کے قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف اور پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور میاں شہباز شریف کے صاحبزادے  حمزہ شہبازکے خلاف رمضان شوگر ملز کیس کے سلسلے میں ایک  ریفرنس دائر کیا گیا تھا.

نیب کی طرف سے میاں شہباز شریف پر الزام لگایا گیا ہے کہ رمضان شوگر ملز کےلئے انہوں نے  10کلو میٹر طویل نالہ تیار کروایا جس کے لئے میاں شہباز شریف نے وزیر اعلیٰ پنجاب کی حیثیت سے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا جس سے ملکی خزانے کو کروڑوں روپے کی مالیت کا کانقصان ہوا۔ ملزمان میاں شہباز شریف اور حمزہ شہباز  پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے 21 کروڑ روپے کی کرپشن کا الزام ہے۔

 نیب کے ریفرنس میں کا متن ہے کہ حمزہ شہباز رمضان شوگر ملز کے سی ای او  رہےہیں، رمضان شوگر ملز کے لیے مقامی آبادیوں کے لئے تعمیرات کے نام پر 36 کروڑ روپے سے تحصیل بھوانہ کے قریب سیوریج کے لئے نالہ بنوایا گیا تھا،میاں شہباز شریف نے بطور وزیراعلیٰ پنجاب اس نالے کی تعمیر کے لیے سرکاری بجٹ کا استعمال کیا ہے۔


گزشتہ سماعت پر حمزہ شہباز عدالت میں پیش نہیں ہوئے تھے جس پر عدالت نے آئندہ سماعت پرحمزہ شہباز کو ہر صورت پیش کرنے کا حکم صادر کیا تھا‘گزشتہ سماعت پراحتساب عدالت میں جج وسیم اختر نے ڈیوٹی جج کے طور پرسابق وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف اور
 حمزہ شہباز کے خلاف رمضان شوگر ملز کیس کی سماعت کے دوران  استفسار کیاتھاکہ حمزہ شہبازکو سماعت پر کیوں نہیں پیش کیا گیا، جس کے جواب میں نیب پراسیکیوٹر وارث علی جنجوعہ نے کہا تھاکہ حمزہ شہباز کو پیش نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ملزم حمزہ شہباز دوسرے تفتیشی افسر کی حراست میں ہیں،دوسرے کیس جو آمدن سے زائد اثاثوں کے بارےمیں ہےکے تفتیشی افسر کو ملزم کو پیش کرنے کی ہدایت نہیں کی گئی تھی، اگر عدالت حکم دے گی تو  آئندہ پیشی پر ملزم کو عدالت میں پیش کر دیا جائے گا۔


نیب پراسیکیوٹر کے دلائل پر حمزہ شہباز کے وکیل نے اعتراض کیا اور کہا کہ عدالت نے گزشتہ سماعت پر بھی ملزم حمزہ شہباز  کو پیش کرنے کا واضح حکم دیا تھا  لیکن اسکے باوجود ملزم کو پیش نہیں کیا گیا اس  کے جواب میں  نیب کے پراسیکیوٹر نے کہا کہ آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں دوسری عدالت نمبر 4 نے ملزم کو 24 جولائی تک کے جسمانی ریمانڈ پر بھیج رکھا ہے جس کی وجہ سے ملزم کو عدالت میں پیش کرنا ناممکن تھا۔ آئندہ سماعت تک ریمانڈ ختم ہو جائے گا تو ملزم کو عدالت میں پیش کر دیا جائے گا ۔

بدھ، 5 اگست، 2020

لبنان دھماکے میں زخمی پاکستانیوں کی تعداد

منگل کے روز لبنان کے دارلحکومت بیروت میں ہونے والے دھماکوں کے بارے میں پاکستانی سفارت خانے نے اپنا بیان جاری کیا ہے ۔  پاکستانیسفیر نے بتایا ہے کہ ابھی تک لبنان میں موجود کسی پاکستانی شہری کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات نہیں ملی۔ ایک پاکستانی شہری کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے جو بندرگاہ سے 35 کلو میٹر دور کے شہ
گزشتہ روز لبنان کے شہر بیروت میں بندرگاہ پر موجود آتشگیر مواد بردار جہاز میں دھماکے نے تباہی مچادی ۔ وزیر صحت بیروت کے مطابق پہلا دھماکہ آتشگیر مواد بردار جہاز میں ہوا اور اس کے بعد شہر کے وسط میں دھماکہ ہوا ۔دھماکوں کی شدت نے قیامت برپا کر دی ۔سینکڑوں کلو میٹر دور تک کے علاقے میں دھماکے کی شدت محسوس کی گئ۔بیروت سے 240 کلو میٹر دور سائپرس جزیرے کے لوگوں کو بھی دھماکے کی شدت محسوس ہوئی۔
دھماکے اس قدر شدید اور تباہ کن تھے کہ عمارتیں زمین بوس ہو گئیں سڑکیں تباہ ہو گئیں اور سڑکوں پر چلتی گاڑیاں الٹ گئیں۔
اس عظیم سانحے کو ہیرو شیما اور ناگاساکی کے ایٹمی دھماکوں سے تشبیہ دی جارہی ہے ۔اطلاعات کے مطابق دھماکے کے بعد کئی کلومیٹر کا علاقہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔
وزیر صحت کے مطابق دھماکے آتشگیر مادہ لے جانے والے بحری جہاز میں ہوا تھا اور بعد ازاں شہر میں دھماکہ ہوا جس سے سینکڑوں افراد جاں بحق اور ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہوئے،

جبکہ سیکیورٹی چیف کا کہنا ہے کہ بیروت کی بندرگاہ پر
موجود اسلحہ کے گودام میں دھماکہ ہوا ہے  جہاں سالوں سے اسلحہ پڑا ہے ۔
دھماکے کے نتیجے میں 700 سے زائد افراد جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہیں , وزیر صحت کا کہنا ہے کہ ابھی حتمی تعداد کے بارے میں کچھ کہنا نا ممکن ہے کیونکہ زخمیوں کی گنتی نہیں کی جا سکتی بے شمار افراد زخمی پڑے ہیں۔
2 کلو میٹر دور تک انسانی اعضاء بکھرے پڑے ہیں ۔

لبنان کے دارلحکومت بیروت میں ہولناک دھماکے

لبنان دھماکے
لبنان دھماکے 
لبنان کا دارلحکومت بیروت منگل کے روز ہولناک دھماکوں سے لرز اٹھا ۔اطلاعات کے مطابق دھماکے اس قدر شدید تھے کہ 240 کلو میٹر دور تک کے ساحلی علاقے میں دھماکے کے اثرات محسوس کئے گئے ۔دارلحکومت بیروت سے 240 کلو میٹر دور سائپرس جزیرے کے لوگوں نے بتایا کہ دھماکے کے اثرات ہمیں ایسے محسوس ہوئے جیسے زلزلہ آیا ہو۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکہ دارالحکومت بیروت کی بندرگاہ پر موجود آتشگیر مواد بردار جہاز میں ہوا۔وزیر صحت لبنان کاکہنا ہے کہ آتشگیر مواد بردار جہاز میں دھماکے کے بعدتباہی پھیلی۔ بعد ازاں شہر کے وسط میں بھی دھماکہ ہوا ۔دھماکے سے کئی کلومیٹر کا علاقہ مکمل طور پر تباہ وبرباد ہوگیا۔
ابتداء میں ہلاکتوں یا زخمیوں کی تعداد کے بارے میں کوئی سرکاری اعدادوشمار جاری نہیں کئے گئے تھے لیکن خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ سینکڑوں افراد جاں بحق اور ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہیں ۔
بعد ازاں ہلاکتوں کی تعداد 700 بتائی گئی اور 2500 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ملی ہیں جو مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

وزیر صحت کے مطابق پہلا دھماکہ آتشگیر مواد لے جانے والے بحری جہاز میں ہوا تھا ۔ دوسرا دھماکہ شہر کے اندر ہوا جس سے بڑے پیمانے پر تباہی پھیل گئی ۔ دور دور تک انسانی اعضاء بکھر گئے۔
سڑکوںپر چلتی گاڑیاں دھماکے کی شدت سے الٹ گئیں ۔عمارتیں منہدم ہو گئیں  ہر طرف آگ اور دھواں پھیل گیا ۔
لبنانی میڈیا مسلسل دھماکے کے متعلق تازہ اطلاعات دے رہا ہے ۔

پیر، 3 اگست، 2020

ملک بھر میں سکول کھولنے کے بارے میں اجلاس

وفاقی حکومت نے ستمبر کے پہلے ہفتے میں ایس اوپیز کے ساتھ تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ کرلیاہے، ستمبر میں رائے تعلیمی ادارے کھولنے پر صوبائی وزرائے تعلیم نے بھی اتفاق رائے کا اظہار کیا ہے، تاہم اگست کے دوسرے یا ستمبر کے پہلے ہفتے میں تعلیمی ادارے کھولنے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ۔ اعلان نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر کی اجازت کے بعد کیا جائے گا۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی زیر صدارت صوبائی وزرائے تعلیم کی کانفرنس ہوئی،  اجلاس میں ستمبر میں تعلیمی ادارے کھولنے پر غور کیا گیاہے۔ اجلاس میں صوبائی وزراء نے وزیرتعلیم شفقت محمود کی تجویز سے اتفاق کیا ہے کہ ستمبر کے پہلے ہفتے میں ایس اوپیز کے ساتھ تعلیمی ادارے کھول دیے جائیں۔
بتایاجا رہا ہے کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وبا کی موجودہ صورتحال کا یومیہ بنیاد پرجائزہ لیا جا رہا ہے۔
تاہم اب ملک میں وبا کا زور ٹوٹنے لگا ہے۔ جس کے باعث حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اگست کے دوسرے ہفتے یا پھر ستمبر کے پہلے ہفتے میں تعلیمی ادارے کھولےجائیں گے۔ اس حوالے سے ایس اوپیز پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بناہا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی مزید اجلاس بلائے جائیں گے، اجلاسوں میں این سی اوسی کی اجازت کے تحت سکول کھولنے کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
ابھی فی الحال این سی اوسی نے تعلیمی ادارے کھولنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ وبائی صورتحال کے پیش نظر لاک ڈاؤن کیا گیا تھا جس کے باعث 13مارچ 2020سے تعلیمی ادارے بند کردیے گئے تھے،جو تا حال بند ہیں۔
ایس او پیز درج ذیل ہیں :  
اساتذہ اور بچوں کیلٸے ماسک پہننا لازمی ہو گا
ایک ڈیسک پر تین کی بجاٸے دو طلبا کے بیٹھنے کی گنجاٸش ہو گی
 صبح  سکول لگنے سے قبل تمام کلاس رومز میں جراثیم کش سپرے کرنا لازم ہو گا
ہر سکول میں بچوں کے ہاتھ سینٹاٸزر سے دھونے کا انتظام لازم کیا جاٸیگا جو سکولز اپنے بجٹ سے خریدنے کے پابند ہونگے
 بچوں کو صرف حساب ، انگریزی اور ساٸنس کے مضامین پڑھاٸے جاٸیں گے اور چھٹی ہو جاٸے گی  باقی مضامین کا کام گھروں میں کرنے کیلٸے دیا جاٸیگا
 ایک کلاس میں 20 سے زاٸد بچے نہیں بٹھاٸے جاٸیں گے
 جن سکولوں میں جگہ کی قلت ہو گی وہاں مارننگ اور ایوننگ شفٹوں  میں بچوں کو پڑھایا جاٸیگا
 سکول میں داخل ہونے سے قبل ہر بچے اور اساتذہ کا بخار چیک کیا جاٸیگا جس کیلٸے الگ سے عملہ رکھا جاٸیگا

جمعرات، 30 جولائی، 2020

غازئ اسلام ثانی محمد خالد نےملعون قادیانی طاہر نسیم کوجج کے سامنے گولی ماردی

29 جولائی 2020 بروز بدھ پشاور ہائیکورٹ میں توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم  کے مقدمہ کی سماعت کے دوران ایک دلیر نوجوان محمد خالد نے طاہر قادیانی ملعون کو جج کے سامنے گولی مار کر جہنم واصل کر دیا ۔
غازی محمد خالد
غازی محمد خالد
زیر نظر تصویر میں شخصیت دلیر اور اس صدی کےغازئ اسلام محمد خالد کی ہے۔محمد خالدبورڈ بازار پشاور کا رہائشی ہے۔
واضح رہے کہ طاہر نسیم نام کے ملعون قادیانی نے 2018 میں نبوت کا دعوی کیا تھا ناعوذباللہ اور بکواس کی تھی کہ حضرت عیسی علیہ السلام وفات پاچکے ہیں اور مرزا احمد قادیانی کے بعد میں اس صدی کا مجدد اور مسیحا ہوں ۔طاہر ملعون قادری  پشتخرہ کا رہائشی تھا اور 2018 میں تھانہ سربند پشاور میں اس پر مقدمہ درج ہوا تھا ۔
Tahir naseem qadyani
طاہر قادیانی 
مفتی پوپلزئی نے اس ملعون کے بارے میں فتوی جاری کیا تھا ۔2018 سے لے کر 2020 تک مقدمے کی صرف سماعت ہو رہی ہے ۔اس قدر واضح اور صریح مقدمے میں اس قدر طویل کی کیا ضرورت تھی مگر ہمارے عدالتی نظام میں انصاف اتنی تاخیر سے ملتا ہے جب انصاف کی ضرورت نہیں رہتی۔اسی لیے اکثر مقدمات میں مدعی قانون ہاتھ میں لے لیتے ہیں ۔ یہاں تو پھر معاملہ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا لہذا ایک غیور مسلمان نوجوان نے جج کے سامنے ملعون ومرتد قادیانی کو جہنم واصل کر کے یہ بتا دیا کہ انصاف کیسے کیا جاتا ہے اس مقدمے کا فیصلہ تو 14 صدی پہلے دیا جا چکا تھا اور مرتد کی سزا قتل مقرر کی گئی تھی۔اس میں کوئی دو رائے نہیں ۔
غازی محمد خالد کو جائے وقوعہ پر گرفتار کر لیا گیا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ نام نہاد ریاست مدینہ میں اسلام کے اس ہیرو کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا ۔ 

منگل، 28 جولائی، 2020

حج2020 کی ادائیگی کے لیے انتظامات مکمل


حج2020
حج2020 کی ادائیگی کے لیے انتظامات مکمل کر لیے گئے۔حج 2020 کی ادائیگی کے لیے وبا ئی ایس او پیز کو مدنظر رکھ کر انتظامات کئے گئے ہیں ۔اول تو غیر ملکی حجاج کرام کے لیے اس سال ممانعت کی گئی ہے اور صرف سعودی عرب کے رہائشیوں کو اجازت دی گئی ہے وہ چاہے کسی بھی قومیت کے ہوں لیکن سعودی عرب میں رہائش پذیر ہوں۔ اب جبکہ حجاج کی درخواستیں فائنل ہوچکی ہیں تو دوران ادائیگی انتظامات پر زور دیا جا رہا ہے
طواف کےلیے بیت الحرام کے صحن میں مختلف رنگوں سے علامتیں بنا دی گئی ہیں۔
عبد الفتاح مشاط نائب وزیر حج وعمرہ  نے حج کے حتمی انتظامات کا جائزہ لیا اور انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ طواف وسعی کے دوران حجاج کرام کے لیے سماجی فاصلہ بر قرار رکھنا ان اقدامات کے ذریعے ممکن ہو گاان تفصیلات سے وزیر عبدالفتاح مشاط نے الاخباریہ سے گفتگو کرتے ہوئے آگاہ کیا ۔
مزید تفصیل بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حاجیوں کو گروپس میں منقسم کیا جائے گا اور ہر گروپ کو ایک خاص رنگ الاٹ کیا جائے گا اور حجاج کا گروپ اپنے مخصوص رنگ کے دائرے کی پابندی کرتے ہوئے ارکان حج کی تکمیل کرے گا  ۔ جیسا کہ درخواستوں کی وصولی کے عمل کے دوران بھی ا سکریننگ کا خیال رکھا گیا تھا تو یہ امر بھی تسلی بخش ہے کہ حجاج میں کوئی مریض نہیں لیکن وبائی مرض ہونے کی وجہ سے دوران حج بھی احتیاط لازم ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹا جا سکے اسی لیے پہلے سے کیے گئے انتظامات میں  ایس او پیز کے حوالے سے مزید تدابیر کا اضافہ کر دیا گیا ہے ۔

بدھ، 22 جولائی، 2020

یونیورسٹیوں کے طلباء ہو جائیں ایگزام کے لیے تیار

University exams
University exam
 یونیورسٹی طلباء ہو جائیں تیار، یونیورسٹی آف پنجاب نے BA/BSc کے امتحانات کے لیے ڈیٹ شیٹ جاری کر دی ہے۔امتحانات آن لائن لیے جائیں گے ۔
امتحانات میں اپیئر ہونے  کے لیے طلباء کو لاگ ان آئی ڈی دی جائے گی جس کا اجراء 24 جولائی تک ہو گا۔ طلباء valid email address پر لاگ ان آئی ڈی حاصل کر سکیں گے ۔
امتحانات کا انعقاد 5 اگست سے لیکر 20 اگست تک ہو گا۔
یہ شیڈول یونیورسٹی آف پنجاب کے لیے ہے۔جبکہ ملک بھر  میں باقی یونیورسٹیز بھی جلد ہی اپنے امتحانات  کا شیڈول جاری کر دیں گی۔
امکان یہی ہے کہ سب یونیورسٹیز امتحانات آن لائن ہی لیں گی کیونکہ محدود وسائل کے باعث ایس او پیز پر عمل درآمد ممکن نہیں ہو سکتا۔
پاکستان میں تعلیمی ادارے پہلے ہی وسائل کی کمی کا شکار ہیں اس لیے ابھی تک تعلیی ادارے کھولنے کا کوئی انتظام نہیں کیا جا سکا۔وگرنہ ترقی یافتہ ممالک میں وبا سے بچاو کے مکمل انتظامات کے ساتھ تعلیمی ادارے اپنی سر گر میاں شروع کر چکے ہیں ۔
یاد رہے کہ سیکینڈری اور ہائیر سیکینڈری لیول سکولز دوران امتحان بند ہو گئے تھے جس کی وجہ سے امتحانات التواء کا شکار ہوئے اور بالآخر امتحان کینسل کر دیے گئے اور بچوں کو بغیر امتحان کے کچھ شرائط پر پروموٹ کر دیا گیا ہے ۔
نئے تعلیمی سال کا شیڈول جاری نہیں کیا گیا کیونکہ صورت حال غیر یقینی ہے اور دورانیہ کا کوئی اندازہ نہیں ۔
فی الوقت ستمبر کے درمیان سے سکول کھولنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے مگر یہ بھی صورت حال پر منحصر ہے ۔ اس شیڈول کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت خیبر پختونخواہ نے سمارٹ سلیبس ترتیب دیا ہے جس میں لازمی اور سائنس کے مضامین کو فوقیت دی گئی ہے اور اہم موضوعات پر مشتمل شارٹ کورس تیار کیا ہے ۔ جو 6 ماہ کے دورانیے میں کور کیا جا سکے۔

پیر، 20 جولائی، 2020

عید سے 3 روز پہلے ہو گا پھر سے لاک ڈاون،مارکیٹس اور شاپنگ مالز بند


خواتین کے لیے بری خبر، جلدی سے عید کی شاپنگ کر لیں مکمل کیونکہ پنجاب حکومت نے عید سے 3 دن پہلے مارکیٹس اور شاپنگ مالز بند کرانے کا عندیہ دے دیا ہے ۔
ذرائع کے مصابق پنجاب حکومت نے عید سے 3 دن قبل بازار اور شاپنگ مالز کو ممکنہ رش اور ایس او پیز کی خلاف ورزی کے پیش نظر بند کرانے کی تجویز مرکزی حکومت کو ارسال کر دی ہے۔ ماہرین صحت نے اقدام کو خوش آئند قرار دیا ہے جبکہ ن لیگی راہنماؤں نے اس اقدام کی سخت مخالفت کی ہے ۔
 صدر مسلم لیگ ن لاہور علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ لاک ڈاون کی وجہ سے تاجر پہلے ہی بہت نقصان اٹھا چکے ہیں ۔وبا سے متعلق حکومتی کنفیوز پالیسی نے پہلے ہی عوام اور تاجروں کو پریشان کر رکھا ہے ۔ مسلم لیگ ن لاہور کے جنرل سیکریٹری خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ ایس او پیز کی پابندی کے ساتھ اگر بازار اور تجارتی مراکز کھلے رہیں تو کوئی حرج بھی نہیں ۔
لیگی رہنما خواجہ سلیمان رفیق کا کہنا ہے کہ آئے دن حکومت کے بدلتے فیصلوں نے تاجروں کو پریشان کر رکھا ہے ۔ MNA علی پرویز ملک نے تجویز دی کہ حکومت کو ایس او پیز کی روشنی میں احتیاطی تدابیر پر عمل کرانا چاہیے اور کاروبار مکمل بند نہ کرائے جائیں۔