News لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
News لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 13 اگست، 2020

انٹرنیشنل تھنک ٹینک کی جانب سے جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی کیلئے بھارت پر دباو

Kashmir
Kashmir
انٹرنیشنل تھنک ٹینک کی جانب سے جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی کیلئے بھارت پر دباو

بھارتی حکومت پرانٹرنیشنل کرائسز گروپ نامی بین الاقوامی تھنک ٹینک نے  بھارت کے غیر قانونی طورپر زیر تسلط مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کو  بحال کرنے پر زوردیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کو کشمیرکے بارے میں اپنی پالیسی پر دوبارہ غور کرنا ہو گا  ۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی حکومت نے گزشتہ سال 5اگست کو جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرتے ہوئے مقبوضہ علاقے کو 2 یونین ٹیریٹریز میں تقسیم کردیا تھا ۔ بین الاقوامی تھنک ٹینک نے جموں وکشمیرکے متعلق اپنی رپورٹ میں بھارت پر کشمیری سیاسی نظربند راہنماؤں کی رہائی اور مقبوضہ علاقے میں سیاسی سرگرمیوں کی بحالی پربھی زوردیا ہے ۔ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ بھارت کومقبوضہ علاقے میں اپنی فورسز کو بھی نہتے کشمیریوں کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنانے سے روکنا ہو گا کیونکہ فورسز کی طرف سے ظلم و تشدد اور قتل عام کے واقعات کشمیری نوجوانوں کو مسلح جدوجہد شروع کرنے پر مجبور کر رہے  ہیں ۔ مزید رپورٹ میں تھنک ٹینک نے خبردار کیا ہے کہ اگر کنٹرول لائن پربھارت اورپاکستان کے درمیان کشیدگی کو کم نہ کیاگیا تو صورتحال خطرناک رخ اختیار کر سکتی ہے ۔ رپورٹ میں سرحدی کشیدگی کو ہوا دینے پر بھارت کو مورد الزام قراردیاگیا ہے ۔
اس رپورٹ سے دنیا کے سامنے یہ بات تو آگئی ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کا مسئلہ پاکستان نہیں بلکہ بھارت کا پیدا کردہ ہے۔ برطانوی راج کے دوران ہی انگریزوں نے کشمیر کو 75 لاکھ کے عوض سکھ راجہ گلاب سنگھ کے ہاتھوں فروخت کر دیا تھا ، پھر آزادی کے وقت لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے منافقانہ و غیر منصفانہ تقسیم سے کشمیر پاکستان سے الحاق سے محروم رہ گیا۔ تب سے آج دن تک بھارت خطئہ کشمیر پر غاصبانہ تسلط جمائے بیٹھا ہے جس کو کشمیری عوام کسی طور ماننے کو تیار نہیں ہیں ۔
بھارت کی ہٹ دھرمی میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے اور ظلم و جبر کی نئی داستانیں کشمیریوں کے خون سے لکھ رہا ہے۔جتنی ہٹ دھرمی بھارت دکھا رہا ہے کشمیری عوام کا آزادی کا جنون اور زور پکڑ رہا ہے ۔مظلوم کشمیریوں کی ایک نسل اس جبر و استبداد کی بھینٹ چڑھ چکی ہے نہ جانے بھارت کا یہ جنگی جنون کب سرد ہو گا ۔
ہردور میں بھارتی قابض افواج  نہتے کشمیریوں پرظلم ڈھاتے آئے ہیں لیکن گزشتہ سال 5 اگست سے بھارت نے کشمیر میں مکمل لاک ڈاون کر دیا اور کشمیر کی خصوصی حیثیت کو  بنا کسی انسانی و بین الاقوامی قانون کے تحلیل کر دیا۔اقوام متحدہ صرف ایک خاموش تماشائی بنا بیٹھا ہے ۔کشمیری حریت رہنما اور پاکستان کے سفارت کار ہر فورم پر چیخ چیخ کر دنیا کو بتا رہے ہیں کہ کشمیر میں کیا غیر انسانی مظالم ڈھائے جارہے ہیں مگر اقوام عالم کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔
کشمیر کے موقف پر پاکستان کا ساتھ ترکی نے بھی دیا ہے اور بھارت کو کشمیر سے اپنی قابض افواج واپس بلانے پر زور دیا ہے،  مزید ترکی نے پاکستان کے نئے جاری کردہ نقشے کی بھی توثیق کی ہے جس میں کشمیر کو پاکستان کا حصہ دکھایا گیا ہے اس پر بھارت تلملا اٹھا ہے اور ترکی کو پاکستان کے بعد بھارت کا دشمن نمبر 2 قرار دے دیا ہے ۔بھارتی حکومت اپنے ان اوچھے ہتھکنڈوں سے کب تک کشمیر کی آزادی کا راستہ روکے رکھے گا آخر ایک دن بھارت کو کشمیر کی آزاد حیثیت کو تسلیم کر نا ہی ہوگا۔

منگل، 11 اگست، 2020

اردو ادب اور شاعری کا ایک عظیم نام راحت اندوری دار فانی سے کوچ کر گئے

Rahat indori
Rahat indori
اردو ادب اور شاعری آج ایک عظیم شاعر اور استاد کی سرپرستی سے محروم ہو گئے۔
بر صغیر کے عظیم شاعر راحت اندوری 1 جنوری ء1950 کو  انڈیا کے شہر اندور میں پیدا ہوئے ۔ان کا اصل نام راحت قریشی تھا۔شاعری میں اندوری تخلص کرتے تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم نوتن سکول اندور سے پائی۔ ایم اے اردو کی ڈگری برکت اللہ کالج بھوپال سے حاصل کی اور پی-ایچ-ڈی کی ڈگری بھوج یونیورسٹی مدھیا پردیش  سے مکمل کی۔
راحت اندوری درس وتدریس کے شعبے سے بھی منسلک رہے اور ساتھ ہی مصور ی شاعری اور نغمہ سازی پر بھی ان کو دسترس حاصل تھی۔
گیارہ اگست 2020 کو اردو ادب کا یہ عظیم باب ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔ ان کی وفات دوران علاج حرکت قلب بند ہو نے سے وہ اس دار فانی سے رخصت ہو گئے۔ سوگواران میں ان کی بیوہ 3 بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔
اللہ تعالی ان کو اپنی جوار رحمت میں جگہ دیں ۔ ان کی وفات سے اردو ادب میں پیدا ہونے والا خلا شاید کبھی پر نہ ہو سکے۔
زیر نظر ان کے شاعری کے کچھ نمونے ہیں ۔

               تیری ہر بات محبت میں گوارا کر کے
               دل کے بازار میں بیٹھے ہیں خسارہ کر کے

               اک چنگاری نظر آئ تھی بستی میں اسے
                  وہ الگ ہٹ گیا آندھی کو اشارہ کر کے

            میں وہ دریا ہوں کہ ہر بوند بھنور ہے جس کی
                    تم نے اچھا ہی کیا مجھ سے کنارہ کر کے

                  منتظر ہوں کہ ستاروں کی ذرا آنکھ لگے
                چاند کو چھت پہ بلا لوں گا اشارہ کر کے
          ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

      چہروں کی دھوپ آنکھوں کی گہرائی لے گیا
                  آئینہ سارے شہر کی بینائی لے گیا

                    ڈوبے ہوئے جہاز پہ کیا تبصرہ کریں
                   یہ حادثہ تو سوچ کی گہرائی لے گیا

                      حالانکہ بے زبان تھا لیکن عجیب تھا
           جو شخص مجھ سے چھین کے گویائی لے گیا

                     میں آج اپنے گھر سے نکلنے نہ پاؤں گا
                   بس اک قمیص تھی جو مرا بھائی لے گیا

                  غالبؔ تمہارے واسطے اب کچھ نہیں رہا
                 گلیوں کے سارے سنگ تو سودائی لے گیا

                ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

       آنکھ میں پانی رکھو ہونٹوں پہ چنگاری رکھو
               زندہ رہنا ہے تو ترکیبیں بہت ساری رکھو

        راہ کے پتھر سے بڑھ کر کچھ نہیں ہیں منزلیں
                   راستے آواز دیتے ہیں سفر جاری رکھو

                 ایک ہی ندی کے ہیں یہ دو کنارے دوستو
                  دوستانہ زندگی سے موت سے یاری رکھو

                  آتے جاتے پل یہ کہتے ہیں ہمارے کان میں
                       کوچ کا اعلان ہونے کو ہے تیاری رکھو

                 یہ ضروری ہے کہ آنکھوں کا بھرم قائم رہے
                  نیند رکھو یا نہ رکھو خواب معیاری رکھو

                    یہ ہوائیں اڑ نہ جائیں لے کے کاغذ کا بدن
                 دوستو مجھ پر کوئی پتھر ذرا بھاری رکھو

                     لے تو آئے شاعری بازار میں راحتؔ میاں
               کیا ضروری ہے کہ لہجے کو بھی بازاری رکھو

پیر، 27 جولائی، 2020

بیس (20)سال سروس پر سرکاری ملازمین کی جبری ریٹائرمنٹ

اسٹیبلشمنٹ کا سرکاری محکموں پر ایک اور وار، کابینہ ڈویژن کی وزارتوں اور محکموں کو خراب کارکردگی دکھانے والے ملازمین کی فہرستیں 31 جولائی تک فراہم کرنے کی ہدایت کر دی۔
بری کارکردگی دکھانے والے ملازمین کو نوکری سے برطرف کرنے کے ساتھ ساتھ محکموں میں موجود غیر ضروری اسامیاں بھی ختم کی جائیں گی ۔ان فہرستوں کی بنیاد پر 20 سال کی سروس والے گریڈ 1 سے گریڈ 19 تک کے ملازمین کو برطرف کر دیا جائے گا ۔کابینہ نےوزارتوں اور محکموں کو  ہدایت کی ہے کہ وہ ان تمام زائد اسامیوں کی نشاندہی کریں جنہیں قومی مفاد میں ختم کرنا ضروری ہے ، مزید یہ کہ سابقہ ایک سال سے خالی پڑی اسامیوں کو بھی نامزد کریں ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق وفاقی اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی طرف سے محکموں اور وزارتوں کو مراسلہ بھیجا گیا ہےجس میں محکموں سے 20 سال ملازمت کرنے والوں کی فہرستیں مرتب کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور ساتھ ہی ریٹائرمنٹ کمیٹیوں کو گریڈ 1 تا 19 کے ملازمین کی کارکردگی کا جائزہ لینے کا بھی کہا گیا ہےاور وزارتیں اور محکمے ریٹائرمنٹ کمیٹیوں کے اجلاس کی رپورٹ 31 جولائی تک پیش کریں۔
شہزاد ارباب مشیر اسٹیبلشمنٹ نے کہا ہے کہ ریٹائر شدہ سرکاری ملازمین کی پنشن سرکاری خزانے پر بوجھ ہےجو متواتر بڑھتا چلا جا رہا ہے ، ایسی بات کا مطلب سب بخوبی سمجھتے ہیں لیکن ملازمین کو ڈھکوسلا دینے کی خاطر مشیر اسٹیبلشمنٹ نے مزید کہا ہے کہ ہم پنشن کو ختم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔
سرکاری ملازمین کی کارکردگی کی جائزہ رپورٹ اسی سال تیا ر ہو جائے گی جس کی روشنی میں کمزور اور بری کارکردگی دکھانے والے ملازمین کو جبری ریٹائر کر دیا جائے گا ۔
اس سے پہلے شہزاد ارباب مشیر اسٹیبلشمنٹ نے نے کہا کہ حکومت کے خلاف پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے اور طرح طرح کی غیر مصدقہ خبریں پھیلا کر عوام میں بے چینی پھیلائی جا رہی ہے ریٹائرمنٹ کی عمر 55 سال کرنے جیسی خبریں بھی بے بنیاد ہیں اور سرکاری ملازمین کو بغیر پنشن اور دیگر مراعات کے ریٹائر کرنے کی خبروں میں بھی کوئی صداقت نہیں ہے حکومت ایسا کچھ بھی کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔

منگل، 21 جولائی، 2020

سکول کھولنے کی نئی تاریخ کا اعلان

Add caption
 بچوں اور والدین کے لیے بڑی خبر۔ پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن کے صدر ھدایت اللہ خان نے آج اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر کے نجی تعلیمی ادارے 15 اگست سے کھول دیے جائیں گے ۔
ملک بھر کے تمام نجی و سرکاری تعلیمی ادارے مارچ میں وبا کے پیش نظر بند کر دیے گئے تھے۔جہاں یہ اقدام بچوں کی صحت وسلامتی کے لیے بے حد ضروری تھا وہیں یہ بچوں کے تعلیمی سال کے لیے بے حد نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے ۔ پرائیویٹ سکولز مالکان اور ایسوسیشنز عیدالفطر کے بعد سے سکول واپس کھولنے کے درپے ہیں جبکہ حکومت ان کے اس مطالبے کو ماننے سے قطعی انکاری ہے ۔آج پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن کے صدر ھدایت اللہ خان نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ملک بھر کے نجی تعلیمی ادارے ہر صورت 15 اگست سے کھول دیے جائیں گے اور اگر اب حکومت نے ہمارے اس اقدام کی مخالفت کی تو ہم ملین مارچ کریں گے اور حکومت کے خلاف تحریک بھی چلائیں گے۔دوسری طرف حکومت اس فیصلے کو ماننے کے لیے قطعی تیار نہیں ۔حکومتی موقف ہے کہ ملک بھر کے سرکاری و نجی تعلیمی ادارے 15 ستمبر سے کھولے جائیں گے اس سے پہلے کسی کو تعلیمی ادارے کھولنے کی اجازت کسی صورت نہیں دے سکتے ۔ تاہم فنی تعلیمی ادارے اور مدارس مکمل ایس او پیز کے ساتھ اگست کے دوسرے ہفتے سے امتحانات کا انعقاد کر سکتے ہیں ۔جبکہ یونیورسٹیز کو محدود تعداد کے ساتھ ری اوپننگ کی اجازت ہو گی اور صرف 30% طلباء کو ہاسٹل میں رکھنے کی اجازت ہو گی ۔
وفاقی وزیر تعلیم کا یہ بھی کہنا ہے کہ  اگر حالات سازگار نہ ہوئے تو ستمبر میں  بھی سکولز کو نہیں کھولا جائے گا ۔

ہفتہ، 18 جولائی، 2020

وفاقی وزیر مراد سعید کی اربوں روپے کی کرپشن منظر عام پر آگئ

وفاقی وزیر مراد سعید کے کرپشن سکینڈلز میں سے سر فہرست ایک نجی بینک کو سرمایہ کاری کی مد میں بغیر کسی ٹینڈر کی تشہیر کے 118 ارب روپے کا کنٹریکٹ دینے کا الزام ہے ۔
مراد سعید وزیر اعظم عمران خان کے منظور نظر ہیں اور بارہا سرکاری و نجی تقریبات میں بھی وزیر اعظم ، مراد سعید کی تعریف کرتے نظر آتے ہیں اور یہ بھی کہا ہے کہ وفاقی وزیر مراد سعید نے ملکی خزانے کو بہت فائدہ پہنچایا ہے۔ساتھ ہی ساتھ میڈیا کے جادوگر بھی یہ راگ الاپتے رہے ہیں کہ تمام وزراء میں سے وفاقی وزیر مراد سعید کی کارکردگی بہترین ہے۔
تاہم ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹس میں بینک کرپشن سکینڈل کے ساتھ ساتھ پاکستان پوسٹ میں بھی میگا سکینڈل کی نشاندہی کی گئ ہے۔  ابھی تک سامنے آئے ان الزامات کے بارے میں نیب کو بھی مراسلہ لکھ دیا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ نجی بینک کے ساتھ کیے گئے کنٹریکٹ کو منسوخ کرایا جائے ۔
دوسری طرف پاکستان پوسٹ کے ترجمان نے عوام کے نام اپنے پیغام میں محکمہ ڈاک جاری بھرتیوں کی خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ محکمہ  کی طرف سے ایسی کوئی خبر نہیں دی گئی اور بھرتیوں پر پابندی کے باعث نہ ہی کوئی اشتہار شائع کیا گیا ہے ۔مزید انہوں نے کہا ہے کہ محکمہ ڈاک میں بھرتیوں کے حوالے سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبریں افواہوں کے علاوہ کچھ نہیں ،لہذا عوام بھرتیوں کے بارے میں بے بنیاد افواہوں پر  توجہ نہ دیں اور نہ کسی نو سر باز کے دھوکے میں آکر اپنا وقت اور پیسہ برباد نہ کریں۔

جمعہ، 17 جولائی، 2020

سعودی عرب اور پاکستان میں عیدالاضحی کب ہوگی

سعودی حکومت کی جانب سے عید الاضحی 31 جولائی کو ہونے کا امکان ظاہر کر دیا ہے ۔
سعودی عرب کے ماہرین فلکیات نے سیٹلائٹ رپورٹ کے مطابق پیش گوئی کی ہے کہ ماہ ذوالحج کے چاند کی پیدائش بروز پیر ہو گی اور منگل کی شام کو آسمان پر نمودار ہو جائے گا۔
اگر منگل 22جولائ کو یکم ذوالحج ہوتی ہے تو 30 جولائی بروز جمعرات حج یعنی یوم عرفہ ہو گا اور جمعہ کے دن عید 
الاضحی منائی جائے گی ۔
اسی طرح پاکستان میں وفاقی وزیر سائنس وٹیکنا لوجی فواد چوہدری نے بھی چاند کی پیدائش اور ظہور سے متعلق بھی انہی تاریخوں کا عندیہ دیا ہے ۔
لہذا عیدالفطر کی طرح امسال عید الاضحی بھی پاکستان اور سعودی عرب میں ایک ہی دن منائے جانے کا قوی امکان ہے ۔